ابنا: خبروں کے مطابق حامیوں اور مخالفوں کے درمیان ہونے والی لڑائی میں پانچ افراد ہلاک اور دسیوں دیگر زخمی ہوئے ہيں / صرف قاہرہ کے التحریر اسکوائر ميں گذشتہ روز کی جھڑپوں ميں ایک شخص ہلاک اور 16 دیگر زخمی ہوگئے ۔ شہر سوئز ميں بھی مظاہروں کےدوران مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں ہونے والی جھڑپ میں 85 افراد زخمی ہوگئے ۔ مصری فوج نے خبردار کیا ہےکہ وہ فتنہ گروں سے سختی سے نمٹے گي ۔ تمام شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ مصر ایک خطرناک راستے پر چل پڑا ہے اور ہر روز فوجیوں اور کودتا کرنے والوں کے خلاف عوام کے غم وغصے میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ایسے حالات ميں اخوان المسلمین نے جو اس وقت بھی مصر کے حکمرانوں کے خلاف تحریک تمرد کا علم بلند کئے ہوئے ہے ملک کو بحران سے نکلنے کے لئے ایک منصوبہ پیش کیا ہے ۔ مصر کے اخوان المسلمین کے منصوبے میں تین باتوں کو محور قرار دیا گیا ہے ۔ اول یہ کہ محمد مرسی کی سربراہی میں قانونی نظام کے انتخاب میں مصری عوام کے عزم و ارادے کا احترام کیا جائے ، کودتا کرنے والوں کو برطرف کیا جائے اور قانونی صدر ، بنیادی آئين اور مصری پارلیمنٹ کو دوبارہ بحال کیا جائے ۔ دوسرے یہ کہ منتخب صدر پارلمانی انتخابات کرانے اور بنیادی آئین ميں اصلاحات انجام دینے کے ذریعے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنائے ، اور تیسرے یہ کہ تمام قومی و سیاسی گروہ مذاکرات کی میز پر آئیں اور جن مسائل پر اتفاق ہو جائے ان کی پابندی کریں ۔ اس منصوبے پر سب سے پہلا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نیشنل سالویشن فرنٹ نے اس کی مخالفت کی اور اور کہا ہے کہ مصر کی صورتحال 30 جون سے پہلے کی حالت پر نہیں پلٹے گي ۔ نیشنل سالویشن فرنٹ نے اس نکتے پر بھی تاکید کی کہ کوئی بھی سیاسی گروپ یا پارٹی اخوان المسلمین کے ساتھ مذاکرات نہيں کریگي ۔ اور یہ موقف ، مصر میں بحران کے جاری رہنے اور نبرد آزمائی کا بازار گرم رہنے کا سبب بنے گا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے پورے مصر کو خطرہ سے دوچار کردیاہے ۔ تقریبا 25 دنوں سے مصر میں ہونے والےمظاہروں میں ، عوام ہلاک یا زخمی ہورہے ہیں ۔مصر کے اسلام پسند افراد ، فوجیوں اور لیبرلز کی موجودہ حاکمیت کو سرکاری طور پر تسلیم نہيں کرتے اور اسے غیر قانونی سمجھتے ہیں لیبرلز پر مشتمل نیشنل سالویشن فرنٹ بھی اسلام پسندوں کے مقابل محاذ قائم کرکے موجودہ حکومت کا شدت سے حامی ہے ۔ اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس طرح کی مقابلہ آرائی مصر ميں کب تک جاری رہے گي اور اس ملتہب فضا میں کس طرح حکومت کی جا سکتی ہے؟اس وقت مصر میں تمام سیاسی سرگرمیاں تعطل کا شکار ہیں اور شاہراہیں بھی حامیوں اور مخالفین کے تنازعے کے میدان میں تبدیل ہوگئی ہیں ۔ فوج بھی اس سے زیادہ حالات کی تماشا ئی نہیں بنی رہ سکتی اور تمام قرائن و شواہد اس امر کے غماز ہیں کہ عنقریب فوج بھی میدان کارزار ميں کود پڑیگي اور اگر ایسا ہوجاتاہے تو مصر ميں تشدد بڑھ جائیگا اور اس سے ملک ميں خونریز واقعات ميں مزید شدت آجائیگي ۔ اس وقت اس گمان کو تقویت حاصل ہوچکی ہے کہ مصر کا بحران ، منظم طور پر بیرون ملک سے ڈکٹیٹ کیا گیاہے کیوں کہ بحرانی صورتحال میں غیر ملکی فریق ، جو انقلاب کے بعد کی صورتحال سے تشویش میں تھے اب آسانی سے اس ملک پر اپنی خواہشات مسلط کر سکتے ہیں ۔ بہرحال جس زاویے سے بھی مصر کے حالیہ واقعات پر نظر ڈالی جائے ایک نکتہ جو ناقابل انکار ہے یہ ہے کہ مصر ایک ایسے راستے پر گامزن ہے جس کا مستقبل تاریک ہے۔
.......
/169